غزل
اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں
زباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیں
سنا ہے چوریاں ہو جائیں گی بند
کہ اب رہزن ہی رکھوالے ہوئے ہیں
غبار آلود ہے فصل بہاراں
گل خوش رنگ مٹیالے ہوئے ہیں
اک انجانا سا ڈر ہے دل پہ طاری
کہ دشمن اب تو گھر والے ہوئے ہیں
سروں کی ہے ضرورت وقت کو پھر
بلند ہر سمت سے بھالے ہوئے ہیں
پہاڑ اپنی جگہ قائم ہیں اب تک
قیامت کو ابھی ٹالے ہوئے ہیں
مجھے بھی ہو بشارت منزلوں کی
مرے پاؤں میں بھی چھالے ہوئے ہیں
جواز خوف کیا ہو اب تصورؔ
انہی حالات کے پالے ہوئے ہیں
یعقوب تصور