MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں

غزل

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں
زباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیں

سنا ہے چوریاں ہو جائیں گی بند
کہ اب رہزن ہی رکھوالے ہوئے ہیں

غبار آلود ہے فصل بہاراں
گل خوش رنگ مٹیالے ہوئے ہیں

اک انجانا سا ڈر ہے دل پہ طاری
کہ دشمن اب تو گھر والے ہوئے ہیں

سروں کی ہے ضرورت وقت کو پھر
بلند ہر سمت سے بھالے ہوئے ہیں

پہاڑ اپنی جگہ قائم ہیں اب تک
قیامت کو ابھی ٹالے ہوئے ہیں

مجھے بھی ہو بشارت منزلوں کی
مرے پاؤں میں بھی چھالے ہوئے ہیں

جواز خوف کیا ہو اب تصورؔ
انہی حالات کے پالے ہوئے ہیں

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم