MOJ E SUKHAN

گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے

غزل

گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے
دوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائے

حجرۂ گریباں میں ہر جواب روشن ہے
بس ذرا نگاہوں کا زاویہ بدل جائے

آنسوؤں کے بہنے کا یہ اثر تو ہوتا ہے
غم ذرا سا ڈھل جائے دل بھی کچھ سنبھل جائے

مسئلوں کی گتھی بھی یوں کہاں سلجھتی ہے
اک سرا جو ہاتھ آئے دوسرا نکل جائے

اس ادا کو کیا کہئے وہ پڑوس سے آ کر
گل نئے سجا جائے چادریں بدل جائے

کیا عجب تصور ہے ہم طلب کے ماروں کا
حدت تمنا سے آسماں پگھل جائے

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم