MOJ E SUKHAN

ان سے یوں رابطے نزول پڑے

غزل

ان سے یوں رابطے نزول پڑے
راہ میں جابجا تھے پھول پڑے

کیا کہا عشق کے سفر پہ ہو
گر یہ سچ ہے تو دوست طول پڑے

جس پہ تصویر زندگی نہ لگے
ایسی دیوار دل پہ دھول پڑے

منکر خد و خال دکھتے ہو
جا تجھے آئنہ نزول پڑے

اس نے جوڑے میں پھول ٹانکنا تھے
اور ہم شاخ شاخ جھول پڑے

پاؤں دھرنے کی دیر تھی اس کے
اور پھر پانیوں پہ پھول پڑے

اس نے یوںہی بس اک نظر دیکھا
اور ہم تھے کہ راہ بھول پڑے

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم