MOJ E SUKHAN

دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں

غزل

دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں
شام ہوتے ہی سبھی خود کو سلانے لگ جائیں

کیا اندھیرا ہی اندھیرا ہے زمیں کے اندر
کیا چراغوں کو تہ خاک دبانے لگ جائیں

کاش ان عشق کے کتبوں پہ ہوں کنداں ہم لوگ
کاش اس عشق میں ہم لوگ ٹھکانے لگ جائیں

اب بھی موقع ہے مری مانیے دیوار کے ساتھ
رات یہ مجھ سے کہا میری وفا نے لگ جائیں

آیتوں جیسے خد و خال کو چلمن ہی میں رکھ
یہ نہ ہو لوگ تری قسمیں اٹھانے لگ جائیں

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم