غزل
دنیا والوں کو ترے خواب جو آنے لگ جائیں
شام ہوتے ہی سبھی خود کو سلانے لگ جائیں
کیا اندھیرا ہی اندھیرا ہے زمیں کے اندر
کیا چراغوں کو تہ خاک دبانے لگ جائیں
کاش ان عشق کے کتبوں پہ ہوں کنداں ہم لوگ
کاش اس عشق میں ہم لوگ ٹھکانے لگ جائیں
اب بھی موقع ہے مری مانیے دیوار کے ساتھ
رات یہ مجھ سے کہا میری وفا نے لگ جائیں
آیتوں جیسے خد و خال کو چلمن ہی میں رکھ
یہ نہ ہو لوگ تری قسمیں اٹھانے لگ جائیں
ندیم ناجد