MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب بھی اس حسن نازکی سے ملوں

غزل

جب بھی اس حسن نازکی سے ملوں
اک عجب رنگ روشنی سے ملوں

تو جو کہہ دے تو چھوڑ دوں یہ جہاں
تو جو کہہ دے تو ہر کسی سے ملوں

خود کو اس واسطے کیا ہے چراغ
تاکہ میں اپنی روشنی سے ملوں

ہر طرف تو ہی تو دکھائی دے
اس قدر شوق دلبری سے ملوں

کھویا جاؤں میں تیرے شہر میں اور
ڈھونڈنے پر تری گلی سے ملوں

تجھ سے پہلے تری خوشی کے سبب
آنکھ میں آ چکی نمی سے ملوں

اس قدر بھی میں اب نشے میں نہیں
تیرے ہوتے بھی زندگی سے ملوں

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم