MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا

غزل

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا
میرا سایہ مرے پیکر سے بڑا ہو گویا

تیرے لہجے میں تو تھی ہی تری تلوار کی کاٹ
تیری یادوں میں بھی اب زہر ملا ہو گویا

پچھلے موسم میں سبھی گریہ کناں تھے مگر اب
چشم خوں رنگ میں سیلاب رکا ہو گویا

چاند نکلا تو مری ذات کو اندازہ ہوا
اس نے چپکے سے مرا نام لیا ہو گویا

چن لیا میں نے تو پھر اپنی محبت کا خدا
اس کو اب بھی ہے گماں میرا خدا ہو گویا

ایک مدت سے خلاؤں میں تھیں آنکھیں روشن
اب یہ عالم ہے کہ آنکھوں میں خلا ہو گویا

پھول کھلنے کو تو نقاش کھلے خواب مگر
میرے زخموں کے چٹخنے کی صدا ہو گویا

نقاش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم