MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا

غزل

ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا
کتنا مشکل ہے چشم تر رکھنا

پہلی صف میں کھڑے ہوئے لوگو
آخری شخص پر نظر رکھنا

یار دیوار کا تقاضا ہے
کچھ بھی ہو جائے اس میں در رکھنا

مجھ کو امکان نے سکھا ڈالا
ایک تازہ خراش کر رکھنا

اپنے پہلو میں تم بھی مصرع میرؔ
اے مرے ذوق معتبر رکھنا

دیکھ حیرت نہ پھیل جائے کہیں
دشت آباد پر نظر رکھنا

ندیم ناجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم