غزل
بھول جانے کا ہنر تو مجھے آتا ہی نہیں
اس لیے دور تلک ہجر سے ناطہ ہی نہیں
ایسے دالان کشا کے در و دیوار پہ خاک
جو ترے جسم کی خوشبو میں نہاتا ہی نہیں
یوں میسر ہے ہمیں ان کی جبین روشن
رات ہونے پہ کوئی دیپ جلاتا ہی نہیں
اک عجب شہر مفادات کی زد میں ہیں سبھی
اپنے ہونے کا یقیں کوئی دلاتا ہی نہیں
ندیم ناجد