MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

غزل

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے
مگر گرفت میں آتا نہیں کہ سایہ ہے

جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے
کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے

ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی
ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے

سمجھ رہے تھے جسے ایک مہرباں بادل
وہ آگ بن کے ہری کھیتیوں پہ برسا ہے

وہ ایک شخص جسے آج تک نہیں دیکھا
خیال و فکر پہ اس شخص کا اجارہ ہے

دبیز پردوں کے پیچھے نہ جھانکئے کہ وہاں
گئے دنوں کو نشانی بنا کے رکھا ہے

شفیقؔ ڈھونڈنے نکلے تھے گھر سے ہم جس کو
وہ کرچیوں کی طرح راستوں میں بکھرا ہے

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم