MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے

غزل

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے
ہر سوال اس کے لیے ہے ہر جواب اس کے لیے

ہجر کے لمحے شماریں یا لکیریں حرف ہم
ہر حساب اس کے لیے ہے ہر کتاب اس کے لیے

قرب اس کا ہے ہماری واپسی کا منتظر
جھیلتے ہیں ہم بھی دوری کا عذاب اس کے لیے

وہ ہمارے واسطے رہتا ہے ہر دم مضطرب
ہم بھی ہیں آئے ہوئے زیر عتاب اس کے لیے

اس کے ہر دکھ کا مداوا اپنے بس میں بھی نہیں
اشک خوں اس کے لیے ہیں دل کباب اس کے لیے

من کی ہر خواہش کو وارا اس کی چاہت پر شفیقؔ
کھل رہے ہیں تن پہ زخموں کے گلاب اس کے لیے

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم