MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے

غزل

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے
ادھر ادھر پڑے ہیں سب کٹے ہوئے

ہزیمتوں کے کرب کی علامتیں
چراغ طاق طاق ہیں بجھے ہوئے

تمام تیر دشمنوں سے جا ملے
کمان دار کیا کریں ڈٹے ہوئے

وصال رت میں ہجر کی حکایتیں
اداس کر گئی ہیں دل کھلے ہوئے

گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی
مگر بھلا دیے گئے گئے ہوئے

تنی تنی سی گردنیں جھکی ہوئی
دعا کو ہاتھ ہیں سبھی اٹھے ہوئے

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم