MOJ E SUKHAN

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر

غزل

دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پر
اب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پر

دل کی کلیاں افسردہ سی ہر چہرہ مایوس مگر
باغ مہکتے دیکھ رہا ہوں گھاٹوں پر شمشانوں پر

پتھر دل ہیں لوگ یہاں کے یہ پتھر کیا پگھلیں گے
کس نے بارش ہوتے دیکھی تپتے ریگستانوں پر

جن کی ایک نظر کے بدلے ہم نے دنیا ٹھکرا دی
نام ہمارا سن کر رکھیں ہاتھ وہ اپنے کانوں پر

آہیں آنسو پیش کئے تو گھبرا کے منہ پھیر لیا
ان کو شاید غصہ آیا میرے ان نذرانوں پر

کیا تقدیر کا شکوہ یارو اپنی اپنی قسمت ہے
اپنا ہاتھ گیا ہے اکثر ٹوٹے سے پیمانوں پر

آج کنولؔ ہم کچھ بھی کہہ لیں بات مگر یہ سچی ہے
آج کا اک اک پل بھاری ہے پچھلے کئی زبانوں پر

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم