MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح

غزل

ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرح
ہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرح

ہر گلی آئی نظر کوچۂ جاناں کی طرح
ہم کو دنیا یہ لگی شہر نگاراں کی طرح

کم نہ ہوگی یہ خلش دل کی کسی بھی صورت
دل میں سو غم ہیں مکیں خار مغیلاں کی طرح

لوگ رک رک کے چلے جانب منزل لیکن
ہم رہے گرم سفر گردش دوراں کی طرح

اب تو ہر شخص پہ ہوتا ہے گماں قاتل کا
کوئی ملتا ہی نہیں آدمی انساں کی طرح

ہم نے بخشے ہیں اندھیروں کو اجالے لیکن
ہم ہی بے نور رہے گور غریباں کی طرح

ہم کنولؔ آپ میں رہتے ہیں مگر اس سے الگ
ہم تو گلشن میں بھی رہتے ہیں بیاباں کی طرح

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم