MOJ E SUKHAN

بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی

غزل

بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی
وہ اک مذاق ہوا کوئی زندگی نہ ہوئی

نظر کسی کی اجالوں سے بھر گئی دامن
چراغ ہم نے جلائے تو روشنی نہ ہوئی

خدا کی آڑ میں کچھ لوگ پوجتے ہیں صنم
اسے فریب کہو یہ تو بندگی نہ ہوئی

تمہاری یاد کے مرہم سے بھی سکوں نہ ملا
کسی طرح بھی مرے درد میں کمی نہ ہوئی

وہ جس پہ ہم بھی امیدوں کے گل کھلا سکتے
وہ شاخ صحن‌ چمن میں کبھی ہری نہ ہوئی

اگر ہے عشق حقیقی تو جاں نثار کرو
صلیب و دار سے ڈرنا تو عاشقی نہ ہوئی

ہزار شکوے گلے لب پہ رقص کرتے رہے
وہ جب ملے تو کنولؔ ہم سے بات بھی نہ ہوئی

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم