غزل
بشر کو جس سے میسر کبھی خوشی نہ ہوئی
وہ اک مذاق ہوا کوئی زندگی نہ ہوئی
نظر کسی کی اجالوں سے بھر گئی دامن
چراغ ہم نے جلائے تو روشنی نہ ہوئی
خدا کی آڑ میں کچھ لوگ پوجتے ہیں صنم
اسے فریب کہو یہ تو بندگی نہ ہوئی
تمہاری یاد کے مرہم سے بھی سکوں نہ ملا
کسی طرح بھی مرے درد میں کمی نہ ہوئی
وہ جس پہ ہم بھی امیدوں کے گل کھلا سکتے
وہ شاخ صحن چمن میں کبھی ہری نہ ہوئی
اگر ہے عشق حقیقی تو جاں نثار کرو
صلیب و دار سے ڈرنا تو عاشقی نہ ہوئی
ہزار شکوے گلے لب پہ رقص کرتے رہے
وہ جب ملے تو کنولؔ ہم سے بات بھی نہ ہوئی
ڈی راج کنول