MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا

غزل

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا
اپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھا

سب کھڑکیاں تھیں بند کوئی در کھلا نہ تھا
جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستہ نہ تھا

کیا جانے کس خیال سے چپ ہو کے رہ گیا
ایسا نہیں کہ غم مجھے پہچانتا نہ تھا

ہونٹوں کے پاس آ نہ سکا جام عمر بھر
حالانکہ فاصلہ یہ کوئی فاصلہ نہ تھا

وہ جس نے زندگی کا مری رخ بدل دیا
وہ آپ تھے حضور کوئی دوسرا نہ تھا

پوچھی کسی نے راہ تو چپ ہو کے رہ گئے
کہتے بھی کیا کہ خود ہمیں اپنا پتہ نہ تھا

اب کے کچھ اس طرح سے بھی آئی کنولؔ بہار
سارے چمن میں ایک بھی پتہ ہرا نہ تھا

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم