MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق میں ہم سے مشقت نہیں کرنی آئی

غزل

عشق میں ہم سے مشقت نہیں کرنی آئی
جیسے کرتے ہیں محبت نہیں کرنی آئی

آپ کے ہاتھ پہ ہم ہاتھ بھی رکھتے کیسے
ہم سے تو اپنی ہی بیعت نہیں کرنی آئی

گردش وقت میں ٹھوکر نہیں کھائی جس نے
اس قبیلہ کو بغاوت نہیں کرنی آئی

ہم ترے سائے میں کچھ دیر ٹھہرتے کیسے
ہم کو جب دھوپ سے وحشت نہیں کرنی آئی

ہم سے نا اہلوں کو اس کار گہہ ہستی میں
زندہ رہنے کی بھی صورت نہیں کرنی آئی

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم