غزل
ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے
آندھی میں دیا لے کے سفر میں نے کیا ہے
ڈالا کہاں ہتھیار کبھی میری انا نے
ہر جنگ میں اس کو ہی سپر میں نے کیا ہے
اک ایسا سفر بھی تھا مری راہ میں آیا
بے منزل و مقصد تھا مگر میں نے کیا ہے
احساس کے جذبات کی کلیوں سے سجا کر
پتھر کو در و بام کو گھر میں نے کیا ہے
اس پیڑ کے ہر پھل میں مرا حق ذرا رکھنا
جس ننھے سے پودے کو شجر میں نے کیا ہے
اشکوں کے دیے میں نے سر شام جلا کے
ہر اک شب ہجراں کو سحر میں نے کیا ہے
عابدہ کرامت