MOJ E SUKHAN

ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے

غزل

 

ہر حبس کے موسم میں گزر میں نے کیا ہے
آندھی میں دیا لے کے سفر میں نے کیا ہے

ڈالا کہاں ہتھیار کبھی میری انا نے
ہر جنگ میں اس کو ہی سپر میں نے کیا ہے

اک ایسا سفر بھی تھا مری راہ میں آیا
بے منزل و مقصد تھا مگر میں نے کیا ہے

احساس کے جذبات کی کلیوں سے سجا کر
پتھر کو در و بام کو گھر میں نے کیا ہے

اس پیڑ کے ہر پھل میں مرا حق ذرا رکھنا
جس ننھے سے پودے کو شجر میں نے کیا ہے

اشکوں کے دیے میں نے سر شام جلا کے
ہر اک شب ہجراں کو سحر میں نے کیا ہے

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم