MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی ہجر کا کسی قرب کا کوئی سلسلہ جو گزر گیا

غزل

کسی ہجر کا کسی قرب کا کوئی سلسلہ جو گزر گیا
مری منزلوں کی نوید تھا وہی راستہ جو گزر گیا

کسے وقت تھا جسے دیکھ کر کوئی سوچتا کوئی پوچھتا
وہی ایک چھوٹا سا سانحہ پس واقعہ جو گزر گیا

وہی اصل متن حیات تھا وہی لفظ روح ثبات تھا
کسی سرسری سی نگاہ سے مرا حاشیہ جو گزر گیا

جہاں رہبری کے کمال میں کئی نام تھے مرے سلف کے
میں اسی کا گرد و غبار ہوں وہی قافلہ جو گزر گیا

نہ بصارتوں کو جگا سکا نہ سماعتوں میں سما سکا
کسی زندگی کا مآل تھا وہی حادثہ جو گزر گیا

جو کھنچا تھا جاں کے خطوط سے جو محیط تھا مری ذات پر
وہ خیال کا مری سوچ کا کوئی زاویہ جو گزر گیا

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم