MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

غزل

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے
وقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئے

تو مری دہلیز پر آ کر ٹھہر جاتا ہے کیوں
تو تو دریا ہے تجھے تو بس روانی چاہئے

ہاتھ میں جس کے بھی دیکھو آگ کا کشکول ہے
اور ہر اک کشکول کو کچھ بوند پانی چاہئے

زندگی اور موت دونوں میں ہے اک رنگ کرم
تم بتاؤ تم کو کس کی مہربانی چاہئے

دل سے مطلب ہے ترے پیکر سے مجھ کو کیا غرض
حکمرانی کو مجھے اک راجدھانی چاہئے

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم