MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

غزل

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے
وہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہے

ہم خواب دیکھتے تھے بہت آسمان کے
آخر میں یہ ہوا کہ زمیں کے نہیں رہے

ہم میں تھے جانے کون سے کانٹے اگے ہوئے
سب کے رہے ہیں آپ ہمیں کے نہیں رہے

دل کو جھکا کے دل سے ادا کر دئے گئے
سجدے رہین صرف جبیں کے نہیں رہے

دو چار لوگ میرے ہوں میرے لئے بہت
سو فیصدی تو عرش نشیں کے نہیں رہے

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم