MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے

غزل

گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے
کون سے دیس سے لائیں گے زمانے والے

دھوپ بخشی ہے تو پھر سایۂ دیوار بھی دے
لوگ سورج کو ہیں معبود بنانے والے

دل کو آمادۂ تجدید وفا کیسے کروں
رس رہے ہیں ابھی ناسور پرانے والے

یوں تو ملتے ہیں ہر اک جسم پہ بے داغ لباس
اٹھ گئے دل پہ مگر داغ اٹھانے والے

گھر میں گھر کی کوئی صورت تو نکالیں عابدؔ
آنے والے ہیں کبھی کے نہیں آنے والے

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم