MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

غزل

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا
چراغ لینے گیا آفتاب لے آیا

ابھی جلا کے اٹھا ہوں پرانے خوابوں کو
وہ میرے واسطے پھر تازہ خواب لے آیا

پھر آج بھاؤ سمندر کا آسمان پہ تھا
پھر آج اپنے لئے میں سراب لے آیا

فسردہ دیکھ کے اس کو بہت پشیماں ہوں
میں ریگزار میں کیوں اک گلاب لے آیا

تجھے تو ہاں یا نہیں میں جواب دینا تھا
جواب میں تو مکمل کتاب لے آیا

ابھی چلا ہی تھا دل اک گناہ کرنے کو
کہ ذہن جا کے خیال عذاب لے آیا

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم