MOJ E SUKHAN

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں

غزل

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں
خواب کے راستے میں حاضر ہوں

یاد ہے عشق تھا کبھی مجھ سے
میں اسی سلسلے میں حاضر ہوں

آپ مجھ میں سنورنا چاہتے ہیں
لیجیے آئنے میں حاضر ہوں

تم خسارہ سمجھ رہے ہو جسے
میں اسی فائدے میں حاضر ہوں

میرا ہونا نہیں مرا ہونا
میں فقط دیکھنے میں حاضر ہوں

آپ منظر کشی کریں آغاز
میں ہر اک حاشیے میں حاضر ہوں

تم مجھے خود جلانا چاہتی ہو
ٹھیک ہے طاقچے میں حاضر ہوں

وہ مجھے دیکھتا ہے ماضی میں
یعنی بیتے سمے میں حاضر ہوں

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم