MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے

غزل

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے
نئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہے

بلا جواز نہیں بولتا ہوں دیر تلک
کہ میں نے بات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے

یوں ہی نہیں مری آنکھوں میں اشک لہراتے
کہ ہر کسی نے مرا دل دکھانا ہوتا ہے

یہ منصفین کسی کو بھی حق نہیں دیتے
خدا کا فیصلہ ہی منصفانہ ہوتا ہے

یہ دشت والے میاں ہجر گنگناتے ہیں
ہر ایک خطے کا قومی ترانہ ہوتا ہے

کسی کو دے دی ہے تحفے میں یوسفی کی کتاب
کہ ہم نے کونسا اب مسکرانا ہوتا ہے

ہماری بات وگرنہ کوئی نہیں سنتا
لہٰذا شور تو ہم نے مچانا ہوتا ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم