MOJ E SUKHAN

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں

غزل

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں
وہ کہے کیسے ہو تم اور میں رونے لگ جاؤں

اے مری آنکھ میں ٹھہرائے ہوئے وصل کے خواب
میں تواتر سے ترے ساتھ نہ سونے لگ جاؤں

مجھ کو ہر چیز میسر ہے محبت میں سو اب
رائیگانی میں ترے داغ نہ دھونے لگ جاؤں

اتنی خوش فہمی میں نقصان نہ ہو جائے کہیں
میں کوئی پائی ہوئی چیز نہ کھونے لگ جاؤں

جا بہ جا بکھرے ہوئے ہیں مرے خواب اور خیال
میں یہ سامان کہیں اور نہ ڈھونے لگ جاؤں

جھیل میں پاؤں اتارے ہیں کسی نے اعجازؔ
کیوں نہ اب میں بھی یہاں ہاتھ ڈبونے لگ جاؤں

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم