MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بتا منزل شوق کیا ہو گیا

غزل بتا منزل شوق کیا ہو گیا مری کوششوں کا صلہ کھو گیا حوادث کی آندھی ہے زوروں پہ آج مرا راہبر آج کیوں سو گیا نہ پند و نصیحت نہ ذوق عمل یہ شیخ و برہمن کو کیا ہو گیا چمن سے گزرتی ہے منہ پھیر کر صبا کی اداؤں کو کیا ہو گیا […]

بتا منزل شوق کیا ہو گیا Read More »

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے

غزل تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے بزم خواب محبت سجاتے رہے چلتے چلتے ملے کتنے دشت جنوں گیت الفت کے ہم تو سناتے رہے خود تو جہد و عمل سے گریزاں رہے نقش قسمت مگر وہ بتاتے رہے یوں تو تاریک تھی اپنی راہ سفر خون دل سے دیے ہم جلاتے رہے ریگزاروں

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے Read More »

درد دل میں مقیم کس کا ہے

غزل درد دل میں مقیم کس کا ہے کام یہ ہے عظیم کس کا ہے دین و مذہب بجا سہی لیکن رونے والا یتیم کس کا ہے خون دیوار کی کتابوں پر حسن نقش قدیم کس کا ہے فیصلہ ہو چکا مریضوں کا منتظر اب حکیم کس کا ہے بانٹ دو گر ہوا تو ہم

درد دل میں مقیم کس کا ہے Read More »

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے

غزل زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے آرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہے ڈھونڈھتا ہے تو جسے وہ جستجو میری بھی ہے مقصد اہل نظر تو ایک ہی منزل میں ہے بندش کون و مکاں پرواز میں حائل نہیں حاصل جہد‌ و عمل تو جذبۂ کامل میں ہے ظلم کی

زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہے Read More »

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں

غزل غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں بے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوں بگڑا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوں لپٹا ہوا شعلوں میں وطن دیکھ رہا ہوں کس فلسفۂ زیست کو سینے سے لگاؤں ہر لاش کو بے گور و کفن دیکھ رہا ہوں اب بار ہے احساس

غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوں Read More »

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات

غزل زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات یہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے بات کیوں بحر تمنا میں نہیں کوئی بھی ہلچل طوفان کوئی اس میں جگاؤ تو بنے بات جینے کے لئے ان کا تصور بھی بہت ہے بے آس ہمیں جی کے بتاؤ تو بنے بات جلنے کو

زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے بات Read More »

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں

غزل اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں پردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیں تپتی ہوئی سڑکوں پہ سفر ہم نے کیا ہے اب برف جو دیکھی ہے تو اوسان گئے ہیں وشواس کی گرتی ہوئی دیوار کے سائے قدموں سے کچلتے ہوئے ایمان گئے ہیں مانا کہ دیا اس نے ہمیں

اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیں Read More »

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور

غزل جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور غیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اور احساس کی پلکوں میں تری یاد کا پرتو غمگین بنا دیتا ہے محفل کا سماں اور گزرے ہوئے حالات سے بنتی ہے کہانی گرتے ہوئے تاروں سے منور ہے مکاں اور مجھ کو نہ بتا زیست کے امکان

جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور Read More »

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے

غزل زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے بے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئے موت بھی ہے زندگی اور موت سے ڈرنا فضول موت سے آنکھیں ملا کر مسکرانا چاہئے ولولے طوفان و آندھی برق و باراں زلزلے ان نئے سانچوں میں ہم کو آج ڈھلنا چاہئے بھوک بیکاری کے شکوے

زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئے Read More »

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

غزل تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے Read More »