MOJ E SUKHAN

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

غزل

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے
اس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہے

اب سامنے بنتا ہے مرا عکس تماشا
یہ ہرزہ سرائی پس آئینہ نہیں ہے

کچھ دن کی شناسائی شناسائی نہ سمجھو
یہ خود سے تعلق مرا دیرینہ نہیں ہے

احکام یہاں دل کے ہی چلتے ہیں کم و بیش
یہ عشق ہے اس کی کوئی کابینہ نہیں ہے

بنتے ہیں ہواؤں میں تمنا کے گھروندے
یہ وہ ہیں مکاں جن میں کوئی زینہ نہیں ہے

مرتا تو کوئی شخص نہیں ہجر میں پھر بھی
یہ جینا مرے دوست کوئی جینا نہیں ہے

ہیں درج سبھی دل پہ محبت کے خسارے
یہ گن کے لکھے ہیں کوئی تخمینہ نہیں ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم