MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لہو میں خاک شفا گوندھنے کی خواہش تھی

غزل

لہو میں خاک شفا گوندھنے کی خواہش تھی
مجھے حسین سے کچھ مانگنے کی خواہش تھی

وہ جس پسر کے جگر میں اتر گئی برچھی
اسی پسر کو جواں دیکھنے کی خواہش تھی

مری تلاش مجھے کربلا میں لے آئی
مجھے زمیں پہ خدا ڈھونڈنے کی خواہش تھی

جنہوں نے لوٹا تھا مولا حسین کا لاشہ
انہیں سناں سے ردا لوٹنے کی خواہش تھی

میں دوڑتی رہی ہر تیر کے تعاقب میں
مجھے پدر کا گلا چومنے کی خواہش تھی

خدا کے آخری لشکر میں بس بہتر تھے
خدا کو کرب و بلا جیتنے کی خواہش تھی

مرے حسین مجھے حر سمجھ معافی دے
مرے حسین مجھے لوٹنے کی خواہش تھی

بجھا چراغ تو پرکھا جنوں بہتر کا
جنہیں لہو سے ضیا بانٹنے کی خواہش تھی

فرات مشک میں بھر کے خیام تک غازی
نہ لوٹ پایا مگر لوٹنے کی خواہش تھی

سناں کی نوک پہ دیکھو حسین زندہ ہے
کٹا نہیں ہے جو سر کاٹنے کی خواہش تھی

سلام اشک کی خوشبو میں اوڑھ کر راہبؔ
دیار کرب و بلا بھیجنے کی خواہش تھی

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم