MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شال چھوٹی ہی سہی رکھ لو بڑی ٹھیک نہیں

غزل

شال چھوٹی ہی سہی رکھ لو بڑی ٹھیک نہیں
تم پہ نکھرے گی بہت گھر میں پڑی ٹھیک نہیں

میں نے پوچھا ہے کہ چائے کے لیے وقت کوئی
ہنس کے بولی ہے اشارے سے گھڑی ٹھیک نہیں

اک تماشا ہے وہ میری ہے نہیں میری ہے
یہ جو کھڑکی میں ہے دوشیزہ کھڑی ٹھیک نہیں

اس محلے میں اگر سانپ ڈسے بہتر ہے
لوگ کہتے ہیں یہاں آنکھ لڑی ٹھیک نہیں

جب بھی مکتب میں مجھے مار پڑے وہ بولے
اب تو ریشم ہو یہ شیشم کی چھڑی ٹھیک نہیں

ایسی بارش ہو تو راہبؔ مجھے ڈر لگتا ہے
وہ بھی بارش میں یہ کہتی تھی جھڑی ٹھیک نہیں

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم