MOJ E SUKHAN

پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا

غزل

پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا
کس نے عظیم شہر کا نقشہ جلا دیا

کل پنچھیوں نے قید میں اک فیصلے کے بعد
بدلے کی سرد آگ سے پنجرہ جلا دیا

تاوان جو نہیں ملا شہ رگ کو کاٹ کر
بچے کی لاش پھینک دی بستہ جلا دیا

آندھی کی پھر چراغ سے تکرار ہو گئی
جگنو نے کیوں ہوا کا دوپٹہ جلا دیا

جب نینوا میں رات تھی اور بجھ گئے چراغ
تب اشقیا نے خوف سے خیمہ جلا دیا

یہ گر رہی ہے راکھ جو راہبؔ زمین پر
بڑھیا نے رات چاند میں چرخہ جلا دیا

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم