MOJ E SUKHAN

کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں

غزل

کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں
مصور ہیں ترے پہلو کو صد پہلو بناتے ہیں

بھلا کیا قتل پر اپنے رقیبوں سے گلہ کہ وہ
مرا نافہ جدا کر کے تری خوشبو بناتے ہیں

تحمل سیکھ ہم سے گفتگو کر نرم لہجے میں
کہ سب تیرے رویے ہی کو اپنی خو بناتے ہیں

کہیں کوئی ستارہ چھوڑتے ہیں بے کرانی میں
کبھی اندھیر نگری میں کوئی جگنو بناتے ہیں

عدو کیسے ستم گر ہیں مجھے تسخیر کرنے کو
تری تصویر کے اوپر مرے بازو بناتے ہیں

ہمیں تو خواب میں بھی زلف سلجھانے کی عادت ہے
مگر وہ لوگ جو الجھے ہوئے گیسو بناتے ہیں

ترے کعبے سے کچھ ایمان والوں کو غرض ہوگی
کہ ہم کافر تو بت خانہ بھی قبلہ رو بناتے ہیں

ہم ایسے کشتگان خاک ہی آکاشؔ صحرا میں
صبا کو اپنے دل کی دھونکنی سے لو بناتے ہیں

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم