MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے

غزل

در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دیے
غریب گھر کی ضرورت نے گھٹنے ٹیک دیے

ہوس نژاد پروفیسروں نے ظلم کیا
کتاب چھوڑ کے عفت نے گھٹنے ٹیک دیے

سنا ہے آج کسی مافیا کی پیشی تھی
سنا ہے آج عدالت نے گھٹنے ٹیک دیے

قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف
مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دیے

غلام دیکھ کے شہزادی نے سلام کیا
تو بادشاہ سلامت نے گھٹنے ٹیک دیے

ہمارے دم سے محبت کا بول بالا تھا
ہمارے بعد محبت نے گھٹنے ٹیک دیے

ہماری پیار کی عادت نہیں گئی اکرامؔ
ہمارے سامنے عادت نے گھٹنے ٹیک دیے

 

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم