MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مکان ہی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی

غزل

مکان ہی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی
شجر ہوا میں اگائے گئے زمیں کم تھی

میں اس جگہ ہوں جہاں سے پلٹ کے سورج میں
پناہ ڈھونڈنے سائے گئے زمیں کم تھی

بشر مقیم تھے قبروں میں اور نئے مردے
سمندروں میں بہائے گئے زمیں کم تھی

ہمیں بھی لوٹ ہی جانا ہے ہم سے پہلے بھی
سب آسماں پہ اٹھائے گئے زمیں کم تھی

تمام عمر کٹی اک جگہ کھڑے رہ کر
کبھی نہ ہم کہیں آئے گئے زمیں کم تھی

یہ کائنات سفر تھا سو رات پڑتے ہی
ہم آسمان سرائے گئے زمیں کم تھی

بزرگ آب بقا پی چکے تھے اور بچے
وجود ہی میں نہ لائے گئے زمیں کم تھی

خدا نے آدم و حوا کو کر دیا پیدا
پھر آدمی نہ بنائے گئے زمیں کم تھی

ہم اپنے آپ کو آکاشؔ گھر سمجھتے رہے
ہمیشہ خود ہی میں پائے گئے زمیں کم تھی

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم