MOJ E SUKHAN

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا

غزل

ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا
اس بات کا ملال کسی نے نہیں کیا

ہوتی رہی ہیں جن کی طرف سے عنایتیں
درویش کو نہال کسی نے نہیں کیا

سب لوگ منتظر ہیں کہ دروازہ کچھ کہے
دیوار سے سوال کسی نے نہیں کیا

تسخیر تو کیا ہے کسی کے جمال نے
پابند خد و خال کسی نے نہیں کیا

بے مثل کی مثال اگر دی تو ہم نے دی
یہ کار بے مثال کسی نے نہیں کیا

چارہ گران زخم کو پھر بھی مرا سلام
حالانکہ اندمال کسی نے نہیں کیا

اکرامؔ شام ہجر گزرنے کے باوجود
شرمندۂ وصال کسی نے نہیں کیا

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم