MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا

غزل

کیا کرتے کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں تھا
ورنہ ہمیں اس کوچے میں آنا ہی نہیں تھا

ہنگامۂ وحشت تھا جہاں جشن جنوں میں
دیکھا تو وہاں کوئی دوانہ ہی نہیں تھا

وہ دل کی لگی ہے کہ بجھائے نہیں بجھتی
کل رات گلے اس کو لگانا ہی نہیں تھا

ملتا ہے تو اب آنکھ ملا بھی نہیں پاتا
وہ خواب اسے یاد دلانا ہی نہیں تھا

جب دیکھو اسی یاد کے نرغے میں پڑے ہو
یہ حال اگر ہے تو بھلانا ہی نہیں تھا

تاریکیٔ صحرا میں ڈراتی ہے اک آواز
یوں دل کو سر شام بجھانا ہی نہیں تھا

وہ شخص جسے سوچ کے آنکھوں میں گئی رات
محفوظؔ اسے دھیان میں لانا ہی نہیں تھا

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم