MOJ E SUKHAN

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے

غزل

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے
ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے

سیاہ دشت خار سے کہاں دو چار ہو گئے
کہ شوق پیرہن تمام تار تار ہو گئے

یہاں جو دل میں داغ تھا وہی تو اک چراغ تھا
وہ رات ایسا گل ہوا کہ شرمسار ہو گئے

عزیز کیوں نہ جاں سے ہو شکست آئنہ ہمیں
وہاں تو ایک عکس تھا یہاں ہزار ہو گئے

ہمیں تو ایک عمر سے پڑی ہے اپنی جان کی
ابھی جو ساحلوں پہ تھے کہاں سے پار ہو گئے

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم