MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راحتیں اپنی جائداد نہیں

راحتیں اپنی جائداد نہیں
اب انہیں ہم پہ اعتماد نہیں

روز اپنا بیاں بدلتے ہو
کیا تمہیں خود سے اتّحاد نہیں

اس حقیقت کا ذمّہ لوں کیسے
عقل کا قلب سے تضاد نہیں

عکس کی لغزشیں معاف کرے
آئنہ اس قدر بھی شاد نہیں

مصلحت ہے ، خموش بیٹھے ہیں
کونسا دور ہم کو یاد نہیں

زہرِ غم سے وہ چشم پوشی کرے
آہ اتنی بھی نامراد نہیں

دوستوں کی عنایتیں ایسی
دشمنوں سے کوئی عناد نہیں

وقعتِ عشق خاک سمجھے گا
حسن سے جس کو اعتقاد نہیں

اس قدر وصل کی خوشامد کیوں
ہجر میں کیا کوئی سَواد نہیں

کیوں ہو اتنے اُتاولے منظور
صبر میں کیا کوئی مفاد نہیں

احمد منظور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم