MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے
زہر پی لوں گا ترے ہاتھ سے صہبا کیا ہے

میں چلا آیا ترا حسن تغافل لے کر
اب تری انجمن ناز میں رکھا کیا ہے

نہ بگولے ہیں نہ کانٹے ہیں نہ دیوانے ہیں
اب تو صحرا کا فقط نام ہے صحرا کیا ہے

ہو کے مایوس وفا ترک وفا تو کر لوں
لیکن اس ترک وفا کا بھی بھروسا کیا ہے

کوئی پابند محبت ہی بتا سکتا ہے
ایک دیوانے کا زنجیر سے رشتہ کیا ہے

ساقیا کل کے لیے میں تو نہ رکھوں گا شراب
تیرے ہوتے ہوئے اندیشۂ فردا کیا ہے

میری تصویر غزل ہے کوئی آئینہ نہیں
سیکڑوں رخ ہیں ابھی آپ نے دیکھا کیا ہے

صاف گوئی میں تو سنتے ہیں فناؔ ہے مشہور
دیکھنا یہ ہے ترے منہ پہ وہ کہتا کیا ہے

فنا نظامی کامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم