رنج میں بے شمار فریادیں
بے دلی کی شکار فریادیں
باز آئے نہ زخم بڑھنے سے
درد نے کیں ہزار فریادیں
سرد مہری پہ کیوں صنم قائم
اے دلِ بے قرار فریادیں
تجھ کو غمگین پاکے اوڑھے ہیں
زردیاں سبزہ زار فریادیں
ایک جیسا عذاب دونوں طرف
دم بخود آر پار فریادیں
عکس کس کربلا سے گزرا ہے
آئنہ پُر غبار فریادیں
ختم ہوتا ہے انتشار کہاں
کب تلک انتظار فریادیں
یوں نہ تُو میری خیرخواہی میں
شک کے خنجر اتار فریادیں
دیکھتے ہیں کہاں پہنچتی ہے
غمزدوں کی پکار فریادیں
ان کو منظور ناگوار نہ ہو
یوں نہ کر بار بار فریادیں
احمد منظور