MOJ E SUKHAN

کونین پر محیط ولائے حسین ہے

کونین پر محیط ولائے حسین ہے
ہر ذرے کی زباں پہ ثنائے حسین ہے

قرطاس پر چمکتا ہوا جوہرِ قلم
بے مثل کیوں نہ ہو کہ عطائے حسین ہے

پرچم تو اور بھی کئی ہوں گے زمین پر
پہنچا جو عرش تک وہ لِوائے حسین ہے

ہر چیز کو فنا ہے جہان خراب میں
تاحشر جو رہے گی صدائے حسین ہے

ہم صرف اس قبیلے کا کرتے ہیں احترام
جس کا ہر ایک فرد فدائے حسین ہے

یہ راز آشکار ہوا کربلا کے بعد
ضامن بقائے حق کی، بقائے حسین ہے

اپنے لئے تھی جتنی گزاری ہے آج تک
باقی جو بچ گئی ہے برائے حسین ہے

اکھڑے ہوئے تھے جس کے قدم وہ یزید تھا
اور جو کھڑا ہے پاؤں جمائے حسین ہے

انوارِ حق کی دید کا دعویٰ جسے بھی ہو
وہ آنکھ قرض دارِ ضیائے حسین ہے

دکھتا ہے یہ جو نور کا ہالہ سا آس پاس
دراصل میرے ساتھ دعائے حسین ہے

انصر کو بیٹھے بیٹھے جو رزق سخن ملا
کتنا کرم گزار خدائے حسین ہے

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم