MOJ E SUKHAN

اب کہاں آئے گی ہوا برداشت

اب کہاں آئے گی ہوا برداشت
حبس کا دور ہے دلا برداشت

عمر ہی کیا ہے خوشبوئے گل کی
اور کچھ دیر اے صبا برداشت

ہم نوا تو بنا لیا مجھ کو
کر سکو گے مری نوا برداشت

خلق سے رشتہْ امید نہ توڑ
اب دعا ہو کہ بد دعا برداشت

کھینچ لے پاؤں خار زاروں سے
ورنہ صد چاک در قبا برداشت

جب بھی پوچھا کسی نے جبر کا حل
میں نے بے ساختہ کہا برداشت

یہ اشارہ ہے کس قیامت کا
حبس برداشت نے ہوا برداشت

درِ امکاں کھلا رہے انصر
کرنا پڑ جائے جانے کیا برداشت

سید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم