MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کے گوشوں سے جو آوازِ محبت نکلے

دل کے گوشوں سے جو آوازِ محبت نکلے
پھول صحراؤں میں کھلنے کی بھی صورت نکلے

کتنے آباد مرے شہر کے ویرانے ہیں
کتنے ذی ہوش یہاں مائلِ وحشت نکلے

یوں تو بے نور سی بنجر سی ہیں آنکھیں لیکن
جب کبھی اشک بہے، اشکِ ندامت نکلے

جن کو دیکھا تھا چٹانوں کی بلندی جیسا
پاس جو آئے تو وہ سایہ ء پربت نکلے

اس کی ہر ایک ادا حیلہ ء تسکین بنے
کار۔ ہستی ۔میں اگر تھوڑی سی فرصت نکلے

عمرِ رفتہ پہ کیا ہم نے بھروسہ ناحق
نہیں ممکن ہے کہ یہ باعث۔راحت نکلے

ہم کو اک شخص بھی ایسا نہیں ملتا جو یہاں
بات میں اس کی سدا حرف۔ صداقت نکلے

تو بھی مسمار کرے خواب کسی کے رضیہ
کاش اس طرح کبھی دل کی یہ حسرت نکلے

رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم