MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب دیئے دل کے سرشام ہی جلنے لگ جائیں

جب دیئے دل کے سرشام ہی جلنے لگ جائیں
اشک بے ساختہ آنکھوں سے چھلکنے لگ جائیں

سر پہ الزام کے بادل ہوں تو ڈر لگتا ہے
کہیں تہمت کی گھٹائیں نہ برسنے لگ جائیں

بس یہی خوف ہمیں دور کئے ہے تم سے
روبرو آئو جو تم، ہم نہ بہکنے لگ جائیں

دیکھ کر ساتھ مرے باد صبا کو چلتے
کل کلاں کو کہیں اشجار نہ چلنے لگ جائیں

رشک آتا ہے مجھے دیکھ کے اکثر ان کو
پیڑ جو بار۔ثمر سے کہیں جھکنے لگ جائیں

یوں بھی ہوسکتا ہے ان موم سی نظروں کا اثر
دل جو سینے میں ہیں پتھر کے دھڑکنے لگ جائیں

رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم