ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیں
ایسے میں ہم اپنی ہی نگاہوں میں گرے ہیں
پہنے ہوئے پھرتے ہیں سبھی جھوٹ کا ملبوس
لگتے ہیں بظاہر کہ بہت صاف کھرے ہیں
ایسا تو نہیں ان میں سمجھ بوجھ نہیں ہے
اوہام پرستی میں مگر پھر بھی گھرے ہیں
چہرے پہ بناوٹ کی محبت کا ہے غازہ
دل سب کے مگر گرد_ کدورت سے بھرے ہیں
اپنوں کی عنایات کی برسات سے اب تک
جو زخم ملے ہم کو وہ تازہ ہیں ہرے ہیں
ان سے رہے دوری جو پرستار ۔انا ہیں
یہ لوگ حقیقت میں تمھارے نہ مرے ہیں
پروفیسر رضیہ سبحان