MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں
کہ جیسے یاد تمھاری کبھی تھمی ہی نہیں

سماعتوں میں مری گونجتی رہی ہر دم
وہ ایک بات جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں

نہ جانے کسی لئے اس کا ہی انتظار رہا
وہ ایک شخص کہ جس سے کبھی ملی ہی نہیں

ہوا نے جب بھی اڑایا گئی فلک کی طرف
عجیب خاک تھی جو خاک میں ملی ہی نہیں

کبھی لگا کہ بہت تیز رو رہے لمحے
کبھی لگا کئی صدیوں سے میں چلی ہی نہیں

جہاں تلک بھی چلو گے تمھارے ساتھ چلوں
محبتوں کے سفر میں کبھی تھکی ہی نہیں

کسی کی تیر۔نظر نے ستم کئے اتنے
کلی جو باغ۔تمنا میں تھی کھلی ہی نہیں

میں اک سفیر ہوں رضیہ گداز لہجوں کی
خفا کسی سے بہت دیر تک رہی ہی نہیں

پروفیسر رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم