MOJ E SUKHAN

ہنر کی کارگہ سے شے عجب نکل آئے

ہنر کی کارگہ سے شے عجب نکل آئے
میں دن بناتا رہوں اور وہ شب نکل آئے

دلیل اپنی جگہ پر یہ عین ممکن ہے
کہ بے سبب کا بھی کوئی سبب نکل آئے

کوئی ستارہ تھا حیرت بھرا نظارہ تھا
گھروں میں سوئے ہوئے لوگ سب نکل آئے

نکلنا ہے اسی شب ماہ وصل نے لیکن
یقیں سے کہہ نہیں سکتا کہ کب نکل آئے

میں دیکھنے میں بہت محو تھا تری تصویر
کہ چومنے کو مجھے تیرے لب نکل آئے

اے بے نیاز جہاں کچھ تو غور کر شاید
کہیں دبی ہوئی کوئی طلب نکل آئے

بری طرح سے ہیں دن دھند کی حراست میں
کسی طرف سے ذرا دھوپ اب نکل آئے

مزہ تو جب ہے اداسی کی شام ہو شاہیںؔ
اور اس کے بیچ سے شام طرب نکل آئے

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم