MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا

موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جاخشک دریاؤں ندی نالوں کو پانی دے جا کچھ تو سمجھا دے طلسمات شب و روز مجھےان حصاروں میں کوئی باب معانی دے جا ظلمت حبس دل و جاں میں جلا شمع ہواتو کہیں ہے تو مجھے اپنی نشانی دے جا میں سبک سیر سہی مجھ کو تو […]

موجۂ درد سے جسموں میں روانی دے جا Read More »

مرے بیش و کم کے پیچھے ترا ہاتھ ہے زیادہ

مرے بیش و کم کے پیچھے ترا ہاتھ ہے زیادہمرا دن بنانے والے مری رات ہے زیادہ یہاں ایک حد سے آگے کسی زعم میں نہ رہناتجھے چھوڑ جانے والا ترے ساتھ ہے زیادہ جو سرہانے رکھے رکھے شب غم میں سو گیا ہےمرا کام کرنے والا وہی ہاتھ ہے زیادہ وہ جو اصل واقعہ

مرے بیش و کم کے پیچھے ترا ہاتھ ہے زیادہ Read More »

راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس

راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاسبس میں تھا اور وسعت صحرا تھی میرے پاس تھا میرے پاس گھٹتی ہوئی زندگی کا رنجاور ایک لمبی خواہش دنیا تھی میرے پاس اپنا ہر اک نظارہ دکھانا پڑا اسےکرتا وہ کیا کہ چشم تماشا تھی میرے پاس تپتے ہوئے دنوں میں کہیں تھی خنک ہوااور

راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس Read More »

اس کے لیے آنکھیں در بے خواب میں رکھ دوں

اس کے لیے آنکھیں در بے خواب میں رکھ دوںپھر شب کو جلا کر انہیں محراب میں رکھ دوں صورت ہے یہی اب تو گزرنا ہے یوں ہی وقتجس بات کو دل چاہے اسے خواب میں رکھ دوں پھرتے ہیں سدا جس میں سمندر بھی زمیں بھییہ پورا فلک بھی اسی گرداب میں رکھ دوں

اس کے لیے آنکھیں در بے خواب میں رکھ دوں Read More »

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گالہو ہو سرد تو شعلہ کہاں سے نکلے گا ہزار گھیرے رہے جبر کا حصار سیہکہ باب‌ راہ اماں درمیاں سے نکلے گا جو تلخ حرف پس لب ہے عام بھی ہوگاچڑھا ہے تیر تو آخر کماں سے نکلے گا جو پیڑ پھل نہیں دیتے وہ

یہ برف زار بدن سے نہ جاں سے نکلے گا Read More »

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیںرواں ہے جس میں سفینہ سراب ہو نہ کہیں یوں ہی اترتا نہ جا سرد گہرے پانی میںچمکتا ہے جو بہت سحر آب ہو نہ کہیں کھڑا جو جھانکتا ہے کب سے گرم کمروں میںگلی میں ٹھٹھرا ہوا ماہتاب ہو نہ کہیں ہوا یہ کون سی چلتی

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں Read More »

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوابات کیا تھی میں خفا جس پر زمانے سے ہوا ایک پل میں اک جگہ سے اتنا روشن آسماںکوئی تارہ بنتے بنتے ٹوٹ جانے سے ہوا سوچتا رہتا ہوں میں اکثر کہ آغاز جہاںدن بنانے سے کہ پہلے شب بنانے سے ہوا میں غلط یا تم غلط

زخم کھانے سے یا کوئی دھوکہ کھانے سے ہوا Read More »

زرد پیڑوں پہ نیا رنگ ذرا آنے دے

زرد پیڑوں پہ نیا رنگ ذرا آنے دےاس طرف بھی نئے موسم کی ہوا آنے دے جنبش چشم سے گرما دے مرا سرد لہوسست دریا کو سمندر کی صدا آنے دے شاخ حالات سے اب جھاڑ بھی دے ترش ثمرتلخ ہونٹوں پہ کوئی تازہ مزا آنے دے یوں تو کھا جائے گی ظلمات دل و

زرد پیڑوں پہ نیا رنگ ذرا آنے دے Read More »

جون ایلیا کون تھے کیا تھے

#یوم_ولادت_جون_ایلیا جون ایلیا جن کا اصل نام سید حسین سبطِ اصغر نقوی تھا۔ ان کی پیدائش ۱۴ دسمبر ۱۹۳۱ امروہہ شہر میں ھوئی۔ یہ شہر بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع ھے۔ جون ایلیا کے والد کا نام علامہ شفیق حسن ایلیا تھا۔ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ جون ایلیا کے تین بھائی

جون ایلیا کون تھے کیا تھے Read More »

مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو

مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہواس کارواں سرا کے مکینوں کی خیر ہو ٹھہراؤ پانیوں میں ہے کتنا عجیب سادریا کے خوش خرام سفینوں کی خیر ہو ہر خواب کے سفر میں مرے پاؤں کے تلےآ کر کھسکنے والی زمینوں کی خیر ہو کر ایک لمحہ سکھ کا مرے روز و شب کو

مل بیٹھنے کے سارے قرینوں کی خیر ہو Read More »