MOJ E SUKHAN

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں
کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں

اے کم نصیب دل تو مگر چاہتا ہے کیا
سنیاس لے لیں چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں

الجھا کے خود ہی زیست کے اک ایک تار کو
خود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں

اک عمر تک جو زیست کا حاصل بنی رہیں
پامال ہو رہی ہیں وہ اقدار کیا کریں

ہے پوری کائنات کا چہرہ دھواں دھواں
غزلوں میں ذکر یار طرح دار کیا کریں

اس دوہری زندگی میں بھی لاکھوں عذاب ہیں
دنیا سے دل ہے برسر پیکار کیا کریں

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم