MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا
تنہا کبھی وہ انجمن آرا نہ مل سکا

ہم پر تو جلد کھل گیا ساحل کا سب بھرم
اچھے رہے وہ جن کو کنارہ نہ مل سکا

یک طرفہ رابطہ ہی نبھانا پڑا ہمیں
ان کی طرف سے کوئی اشارہ نہ مل سکا

تم بھی قصوروار نہیں قصہ مختصر
میرا تمہارے ساتھ ستارہ نہ مل سکا

شہروں کی خاک چھانی کھنگالے ہیں دشت و در
لیکن ہمیں سراغ ہمارا نہ مل سکا

میں بھی تھی خود پسند نہیں اس میں شک کوئی
اکثر تو پر مزاج تمہارا نہ مل سکا

اے کاش ساتھیوں سے وہ اپنے کبھی کہے
شبنمؔ سا کوئی مجھ کو دوبارہ نہ مل سکا

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم