MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
کہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں

قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدن
مگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں

یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیں
عجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں

میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بار
مجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں

یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہے
ہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں

اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتی
امیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم